16 جون 2010 - 19:30

وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ تہران میں ترک اسلحہ کانفرنس اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں اور اھداف کے پیش نظر ہی منعقد کی جارہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا کہ تہران میں سترہ اور اٹھارہ اپریل کو ایک کانفرنس منعقد ہوگی جس کا عنوان ہے ایٹمی انرجی سب کے لئے اور ایٹمی ہتھیار کسی کےلئے نہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ملکوں اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی لگائیں اور مشرکہ طور پر کوششیں کریں تاکہ مستقبل میں دنیا زیادہ استحکام کی حامل ہوسکے۔
انہوں نے تہران میں منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس کو نہایت اہم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ تمام ممالک جو عالمی سطح پر ایٹمی ترک اسلحہ کے خواہاں ہیں تہران جیسے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران کانفرنس میں ساٹھ ستر ممالک کے حکام اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی سمیت بین االاقوامی اداروں اور تنظیموں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بعض ملکوں کی جانب سے ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پابندیان غیرمنطقی اور سیاسی ہتھکنڈے ہیں اور جس قدر دبا‎ؤ میں اضافہ ہوگا اتنا ہی ملت ایران پرعزم ہو کر اپنے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور دنیا ایرانی جوان نسل کی کامیابیوں کا مشاھدہ کرے گی۔ انہوں نے کہا اگر پابندیوں کا بہانہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں ہیں تو اس مسئلے کا جائزہ آئی اے ای اے میں لیاجانا چاہیے اور اسی ایجنسی کے فیصلےکوملاک سمجھا جائے ۔ ترجمان نے کہا کہ آئی اے ای اے نے اکیس مرتبہ ایران کے ایٹمی پروگرام کےبارےمیں رپورٹیں پیش کرکے توثیق کی ہےکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہےاور اس میں قانون سے کسی طرح کا انحراف نہیں پایا گیا ۔ انہوں نے عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات اور حکومت سازی کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ عراق میں جس قدر امن واستحکام آئے گا اتنا ہی ایران سمیت ہمسایہ ملکوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ انہوں نے کہا اسلامی جمہوریہ ایران عراق میں عوامی حکومت کا خیرمقدم کرتاہے ۔